حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے ایک بار پھر جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں کی آزادی پر زوردیا ہے ۔
سید حسن نصراللہ نے پچیس مئی سن 2000میں حزب اللہ کے جانبازوں کی شاندارفتح اورصہیونی غاصبوں کی جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے شرمناک وذلت آمیز پسپائی کی سالگرہ کے موقع پر اپنے ایک خطاب میں کہا کہ جب تک جنوبی لبنان کے تمام علاقوں خاص طورپر شبعا فارم سے صہیونی غاصب پسپائی اختیار نہیں کرلیتے اس وقت تک مزاحمت جاری رہے گی ۔
انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے حقیقت کی تحریف کرکے پراپیگنڈا کیا کہ «ولایت فقیہ کی جماعت ہمارے لئے خطرہ ہے ان کا وہم تھا کہ اگر وہ ہمیں جماعت ولایت فقیہ کے نام سے پکاریں تو یہ درحقیقت ہماری توہین ہے! میں آج اعلان کرتا ہوں کہ جماعت ولایت فقیہ کی رکنیت میرے لئے فخر و مباہات کا باعث ہے ایک ایسے فقیہ کی ولایت کے زیر سایہ رہوں جو عادل و عالم و دانا و شجاع و صادق و مخلص ہے اور میں ان سے کہنا چاہتا ہوں ولایت فقیہ ہی ہمیں کہتی ہے کہ لبنان کثیر القومی ملک ہے اور ہمیں اس کثرت اقوام اور اس کے تنوع و رنگارنگی کی حفاظت کرنی چاہئے.
جناب حسن نصراللہ نے کہاکہ جنوبی لبنان سے صہیونیوں کوشکست دینے کےبعد حزب اللہ نے کبھی بھی حکومت میں ميں حصہ داری کی خواہش ظاہرنہيں کی لیکن افسوس کہ حکمران دھڑا مغربی ملکوں کے اشارے پر گذشتہ برسوں کے دوران لبنانی عوام کے مطالبات اوران کی خواہشات پورا نہ اترا۔
حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے لبنان کے حالیہ واقعات میں حزب اللہ اوراس کے حامیوں کی کارکردگی کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ اور اس کی حامی جماعتوں نے گذشتہ ہفتے دوحہ اجلاس میں ایک بارپھر ثابت کیا کہ وہ صرف لبنان کے مفادات کا ہی تحفظ چاہتے ہيں ۔
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ حزب اللہ اور اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ لبنان کی تمام جماعتوں اور اقوام کو امریکہ سمیت غیرملکیوں سے وابستگی سے بالاتر ہوکر حکومت میں حصہ دیا جانا چاہئے۔ سید حسن نصراللہ نے دوحہ اجلاس میں لبنان کی سیاسی جماعتوں کے نظریات کو ایک دوسرے سے قریب کرنے اور آپس میں سمجھوتہ کرانے کے لئے عرب لیگ، ایران اور شام کی کوششوں کا شکریہ اداکرتے ہوئے اس سمجھوتے کولبنان کی تمام سیاسی جماعتوں اور دوست ملکوں کی کوششوں کا نتيجہ قراردیا ۔ انھوں نے دوحہ اجلاس کو عظیمتر مشرق وسطی کے قیام پر مبنی شکست خوردہ امریکی منصوبے پر ایک اور کاری ضرب قراردیا۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ حزب اللہ کے ہتھیار غیرملکی جارحیت روکنے کے لئے ہے جو کسی صورت میں بھی ملک کے اندر استعمال نہ ہوگا اور یہ کہ اس صورت حال میں فوج کے ہتھیار بھی ملک کی کسی خاص گروہ کے حق میں استعمال نہيں ہونے چاہئیں۔
حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد سمیت مختلف امور کو مستحکم بنانے کے لئے لبنان کے نئے صدر میشل سلیمان کے موقف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے صدرکو ملک کے حزب اللہ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی پوری حمایت حاصل ہے ۔
انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اوراس کی ہم خیال جماعتیں اس قانون کے خلاف ہيں جو حکمراں اتحاد کے مفاد میں تیارکیا گیا تھا ۔